Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

کس سے کروں بیان

Meri Shaairi: Kis Sey Karoon Biyaan
کس سے کروں بیان

کس سے کروں بیاں، افسانہ تیری جدائی کا
بزمِ دنیا میں ہے امتحان میری شناسائی کا
شناسا تو بہت سے ہیں، ہمزباں کوئی نہیں
مہتاج ہوں اے صنم میں تیری ہم نوائی کا
آ اپنی زبانِ سہل سے کہہ دے عدالتِ دنیا کو
قصور ذرا برابر بھی نہیں اس دوش میں سودائی کا
ہماری زبان ہے دل والوں کی، جسے سماج والے
اپناتے نہیں ہیں کہ دل میں ہے خوف رسوائی کا
کب تلک میں تیری قفس نما آنکھوں میں قید رہوں گا
اے صنم آن پہنچا ہے وقت اب میری رہائی کا
آزاد کر دو مجھے کہ دو چار دن میں بھی
کر لوں نظارہ قدرت کی آشکارائی کا
کس بات پہ تجھے اتنا ناز ہے اے بہارِ گلستان؟
دوچار دن کا میلہ ہے بادوبہار آئی کا
ہنگامہَ دن میں کچھ دیر خود کو بہلا لے اے دل
سکون مل جائے گا تجھے آغوشِ شب کی تنہائی کا
اب ذرا دیکھ کر آنکھ ملانا مسعودؔ ، ورنہ
بھرم کھل جائے گا صنم سے تیری آنکھ ملائی کا

 

کس سے کروں بیان

مسعودؔ

Shab-o-Roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW