یہ خواب ہے جو ٹوٹا نہیں
ایسا زخم دل پر لگا ہے، جس کا مداوا نہیں
آج یہ بھی دیکھ لیا ہے، جو کبھی دیکھا نہیں
کھائی تھی اس نے قسم میرے ہاتھوں کو تھامنے کی
آج بھی اسکے ہاتھوں میں ہاتھ ہے ، پر میرا نہیں
بَن سے نکل کر دیوانہ جائے تو کہاں؟
بستی وہ تیری ہے، صحرا بھی ہمارا نہیں
آج اس دل پہ نہ اتنے نشتر لگاؤ
دل میں تیری یادوں کے سوا کچھ بچا نہیں
کچھ دیر رک جاؤ دل کو چین مل جائے گا
بن تیرے بے چین کو اب چین ملتا نہیں
جب سے چھوٹا تیرا ساتھ تلخ ہو گئے ایّام
سانسیں ہو جائیں گی بوجھ یہ کبھی سوچا نہیں
اک بے خودی سی چھائی ہے، اک دھڑکا سا لگا ہے
ابھی پاس سے گذرا، وہ سایہ کہیں تیرا نہیں
اس قدر تنہائی ہے ہمارے نواح میں کہ ہم
خود ہی سے پوچھتے ہیں، ہنگامہ کیوں برپا نہیں؟
شوق سے تم بھی میری قبر پہ آ جانا
آج اگر میرے گھر میں آنا گوارا نہیں
شاید کبھی بھولے سے وہ آ ہی جائیں مسعودؔ
ہر خواب بکھر چکا ہے، یہ خواب ہے جو ٹوٹا نہیں















Add Comment