Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

یہ خواب ہے جو ٹوٹا نہیں

Meri Shaairi: Zakhm Is Dil Per Laga Hai Aisa
یہ خواب ہے جو ٹوٹا نہیں

ایسا زخم دل پر لگا ہے، جس کا مداوا نہیں
آج یہ بھی دیکھ لیا ہے، جو کبھی دیکھا نہیں

کھائی تھی اس نے قسم میرے ہاتھوں کو تھامنے کی
آج بھی اسکے ہاتھوں میں ہاتھ ہے ، پر میرا نہیں

بَن سے نکل کر  دیوانہ جائے تو کہاں؟
بستی وہ  تیری ہے، صحرا بھی ہمارا نہیں

آج  اس  دل پہ نہ اتنے نشتر لگاؤ
 دل میں تیری یادوں کے سوا کچھ بچا نہیں

کچھ دیر رک جاؤ دل کو چین مل جائے گا
بن تیرے بے چین کو اب چین ملتا نہیں

جب سے چھوٹا  تیرا ساتھ  تلخ ہو گئے ایّام
سانسیں ہو جائیں گی بوجھ یہ کبھی سوچا نہیں

اک بے خودی سی چھائی ہے، اک دھڑکا سا لگا ہے
ابھی  پاس سے گذرا، وہ سایہ کہیں تیرا نہیں

اس قدر تنہائی ہے ہمارے نواح میں کہ ہم
خود ہی سے پوچھتے ہیں، ہنگامہ کیوں برپا نہیں؟

شوق سے  تم بھی میری قبر پہ آ جانا
آج اگر میرے گھر میں آنا گوارا نہیں

شاید کبھی بھولے سے وہ آ ہی جائیں مسعودؔ
ہر خواب بکھر چکا ہے، یہ خواب ہے جو ٹوٹا نہیں

یہ خواب ہے جو ٹوٹا نہیں


مسعود

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW