Categories

نومبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930 
شب و روز میری شاعری

آ کہ تجھ بن

Meri Shaairi: Aa Keh Tujh Bin

Meri Shaairi: Aa Keh Tujh Bin

آ کہ تجھ بن دنیا کی محفل میں تنہائی ہے

Meri Shaairi: Aa Keh Tujh Bin

آ کہ تجھ بن دنیا کی محفل میں تنہائی ہے
سایہ  موجود ہر شے کا ہے، پر گھٹا چھائی ہے

آج پھر کیا ہے دل نے رَورَو کے یاد تجھ کو
آج پھر شدّت سے تیری یاد ستائی ہے

دل کے بہلانے کو جب بھی گیا اس گلزار میں
جیسے ہی پتہ کوئی ہلا، یوں لگا تو آئی ہے

اس شہر کی مانوسیت سے خوف سا آنے لگا ہے
کہ اس کے انگ انگ میں تیری یاد سمائی ہے

تو رسوا نہ ہو جائے، اس خوف سے میں نے
اُن گلیوں میں نہ جانے کی قسم کھائی ہے

پھر بھی مجبوری میں جب کبھی اُدھر جا نکلتا ہوں
سر جھکا کر چل نکلنے کی عادت سی بنائی ہے

کب تلک تیری یاد میں کاغذ داغدار کروں گا؟
کیا تجھے کچھ خبر ہے کہ کس نے آنکھ چرائی ہے؟

جس چمن میں بیٹھ کر ساتھ چلنے کی قسم کھائی
دیکھ کر تنہا مجھ کو، وہ دیتا یہ دہائی ہے

‘میری پھل پتیوں کو اپنی خوشبو بخشنے والی
تو ہو گئی جدا مسعودؔ سے، تیرے من میں کیا سمائی ہے

مجھے یاد ہے ابتک، تم نے بیٹھکرمیرے آنگن میں
لہو سے لکھ کر نامِ وفا، چاہنے کی قسم کھائی ہے

میرے آنگن کی گل پتیوں کو اپنی قسمت پہ رشک تھا
ہر چاپ پر وہ کہتے، مسعودؔ کی صنم آئی ہے‘

تو کر کے عہد آنے کا، نہ آئی کئی ہفتوں سے
آج بھی تیرا منتظر اے صنم یہ سودائی ہے

duniya, mehfil, tanhai, dil, urdu sad poetry, qismat poetry, khof poetry.

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW