اپنا اپنا نصیب ہے تو اور کسی کے قریب ہے
اپنا اپنا نصیب ہے تو اور کسی کے قریب ہے
تجھ کو پکاروں گلی گلی کہ دنیا بنی رقیب ہے
جوگی بن کے بَن رہا‘ وحشی بن کے دشت میں
پھولوں بھرے گلزار میں‘ کانٹوں بھرے طشت میں
کہیں نہ تجھ کو بھول سکا یہ بات میری جاں عجیب ہے
میں اک پاگل دیوانہ‘ سن نہ میرا تو افسانہ
سن بھی لیا تو جان میری ایسے اسکو بھول جانا
کہ یہ ہے اک افسانہ گوئی پاگل اسکا ادیب ہے
اپنا اپنا نصیب ہے تو اور کسی کے قریب ہے
تجھ کو پکاروں گلی گلی کہ دنیا بنی رقیب ہے
اپنا اپنا نصیب ہے۔۔















Add Comment