گوری کا تحفہ
گوری تحفے میں تجھ کو دیا ہے رومال
چل ایسے نہ سوھنی تو سپنی کی چال
دل میرا نہ ایسے مچل جائے رے
تیرے لب دیکھے نظر بدل جائے رے
یہ کیسا ہنگامہ مچا دیا ہے
کیوں مجھ کو دیوانہ بنا دیا ہے
بنا مکھ تیرا دیکھے ہے جینا محال
یاد ہے مجھ کو کچھ عرصہ پہلے کی بات
دیکھا تھا تجھ کر سپنے میں پیار کی رات
میرے ہاتھوں میں تھا تیرا چہرہ سندر
آرزؤں کا طوفاں مچا دل کے اندر
تیرے پاؤں پہ جس دم رکھے میں نے پاؤں
میرے ہونٹوں کے پاس آ میں تجھکو سناؤں
پیار کا اک فسانہ‘ اک پیار کا سوال
نظریں گستاخ ہیں چومتی ہیں تجھے
تیرے سینے سے لگ کے کہتی ہیں تجھے
کس قدر خوبصورت ہے تیرا بدن
خوشبوؤں کی طرح ہے یہ سوہنا چمن
پہلا تحفہ محبت کا ہے یہ رومال
سینے اسکو لگا سنائے دل میرے کا حال
تیر نینوں کا تو نے چلایا کمال
گوری تحفے میں تجھ کو دیا ہے رومال

Gori Tohfey Mein Tujh Ko














Add Comment