Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

کچھ میرا دل ٹوٹ گیا ہے

Kuch Dil Bhi Mera
کچھ میرا دل ٹوٹ گیا ہے

کچھ میرا دل ٹوٹ گیا ہے
کچھ تیری وفاؤں کا صلہ ہے


کچھ سماج کی دیواریں ہیں حائل
کچھ اپنا نصیب پھیکا سا ہے


کچھ ہجر کی تمہید ہے ان آنکھوں میں
کچھ کاجل بھی بکھرا بھکرا سا ہے


کچھ کہنے کو باتیں ہیں انگنت سی
کچھ رکا رکا لب و لہجہ ہے


کچھ تم کو ہے جانے کی جلدی بہت
کچھ پلٹ کر بھی دیکھنا ہے


کچھ آگ برساتے بادل امڈے
کچھ شعلوں میں ہی گھر بنانا ہے


کچھ اپنوں نے کیے ستم اتنے
کچھ پیار کا سنگدل بن جانا ہے


بس تم ہی یہ نہ جان سکے مسعودؔ
کون اپنا ہے یہاں اور کون پرایا ہے

مسعودؔ

Kuch Dil Bhi Mera

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW