Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

میری تجھ سے بندھی ہے

Meri Shairi: Meri Tujh Se Bandhi Hai Taqdeer Gori
Taqdeer

کسی نظرِ بد کی دید سے
روٹھی قسمت من کی عید سے
جو انتظار میں گھڑیاں بیتی ہیں
کب ہجر کا زخم وہ سیتی ہیں
آ خوشیوں کی بن کے تصویر گوری
میری تجھ سے بندھی ہے تقدیر گوری

میں آج بھی منتظر تیرا ہوں
لاکھ شکوہ سہی مگر تیرا ہوں
کیوں عدو کی بات کو سچ جان کر
کھایا مغالطہ مجھے غلط پہچان کر
میرے خوابوں کی ہے تو تعبیر گوری
میری تجھ سے بندھی ہے تقدیر گوری

کب تک دید کی پیاسی نگاھیں میری
اور گھائل گھائل آھیں میری
یونہی ہو کے بے چین تڑپتی رہیں گی
من میں آس کی چنگاڑیاں سلگتی رہیں گی
اب تو ملنے کی کر کوئی تدبیر گوری
میری تجھ سے بندھی ہے تقدیر گوری

کل چوھدویں  رات کا مہتاب نکلا
میں گھر سے ہو کے بہت بیتاب نکلا
وہ گلیاں اب کے اداس پڑی تھیں
تیری خوشبوئیں ہر گل کے پاس پڑی تھیں
نہ کر سکا دل کو پابندِ زنجیر گوری
میری تجھ سے بندھی ہے تقدیر گوری

دل روتا ہے اور یہ کہتا ہے
مت توڑ اسے جس میں ربّ رہتا ہے
میرے حصے کی خوشیاں میری ہیں
گو غم کی راتیں اندھیری ہیں
تو ازل سے بنی میری تقدیر گوری
میری تجھ سے بندھی ہے تقدیر گوری

تیرے ہاتھ میں ہے میری قسمت کی لکیر گوری
اب تو مان جا کہ تو ہے میری ہیر گوری
نہ رہ سکے گا یہ دل تجھ سے دور گوری
آ کے پہلو میں بیٹھ  ،  نہ کر غرور گوری
چھوڑ رسموں کو یہ ہے جھوٹی تقریر گوری
میری تجھ سے بندھی ہے تقدیر گوری

مسعودؔ

Taqdeer  Taqdeer  Taqdeer 

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW