Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

بہانے دلدار کے

Meri Shairi: Bahaney Dildar Key
Bahaney dildar

خونِ جگر سے کیے ہیں روشن دیپ پیار کے
بے جان کیوں ہیں یارب بہانے دلدار کے
یہ وہی دلدار ہے جس کے دل کے لیے
ہو کے رہ گئے ہم تختہ دار کے
شکوہ تجھ سے نہ کریں گے کبھی بھولے سے ہم
اڑا بھی دئیے گئے گر پرزے تیرے یار کے
یہ کس مقام پہ لے آئی محبت ہم کو
محیط صدیوں پر ہیں یہاں فاصلے بہار کے
یہ کیسی دنیا ہے تیری یارب تو ہی بتا دے
میں نے ڈھونڈھے نہ پائے ہمدرد نادار کے
دھن دار دیوتا اور بے دھن پجاری ہیں
سب جھوٹے ہیں یہاں قول و قرار کے
میں کہاں تلاش کروں دردِ عشق کی دوا
کہیں دھو نہ سکا داغ، دلِ بیقرار کے
ستم زدہ صورتیں، حسرت بھری نگاھیں
دل ھیں بھرے ہوئے الجھے افکار کے
چند لمحوں کی یہ زندگی تیری نام کی
دید کی امید میں ہیں ستم کش انتظار کے
چھوڑ افسانوں کی باتیں مسعودؔ، کر فکرِ روزگار
یہ تو باتیں ہیں انکی جو بیٹھے ہیں بیکار کے

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW