Roag
وہ وقت بھی آتا ہے کہ سورج کی تپش میں لوگ!
ہو جاتے ہیں گم سراپا، کرتے ہیں سنجوگ!
پھر اے دل کیا غم کہ لوگ کانٹا صفت کہتے ہیں
پھول سے چہرے بھی تو دیتے ہیں عمر بھر کا روگ!
Meri Shairi: Roag – Qitaa
Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.
Add Comment