Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

خزائیں

Meri Shairi: Khizaein
Khizaein

ایسی آئی ہیں خزائیں کہ بادِ بہاری کو ترسے
ایسی چھائی ہیں گھٹائیں کہ روشنی کو ترسے

 ایسا لوٹا ہے گردشِ دوراں نے ھمیں
آنکھ اشکوں سے بھر گئی ہونٹ ہنسی کو ترسے

اب خلوص کو تولتے ہیں لوگ پتھر عوض
اب کے ایسا ملا ہے غم کہ خوشی کو ترسے

تیری قربتوں کے لمحے بھی اداس گزرے
تجھے پاس پا کر بھی دل دل لگی کو ترسے

مسعودؔ

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW