Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

اصول

Meri Shairi: Asool
Asool

انتظار سے بھر زندگی مجھے قبول ہے
میرا وجود میرے غمخوار قدرت کی بھول ہے

جس منزل پہ پہنچ کر مسافر پلٹ جائے
اس منزل سے بہتر پاؤں کی دھول ہے

دنیا کے گلشن میں ہر پھول مسکرا رہا ہے
جو کبھی کھل نہ سکا ہو میرا دل وہ پھول ہے

میں نے سنا ہے مسعودؔ سے کہ دنیا نے کہا
’اپاہنجوں کا اس دنیا میں جینا فضول ہے‘

حق نے جب پوچھا روزِ محشر پہ عذاب کا
چپکے سے زندگی کہہ دونگا کہ یہ نام معقول ہے

یہ تنہائیاں ہی تیری زندگی کا حاصل ہیں مسعودؔ
انہیں دل سے لگاکرجی لو، یہ پیار کا محصول ہے

تجھے سمجھایا تھا میں نے کہ دنیا کے بازار میں
ہر چیز پہ سُود مانگنا، سوداگروں کا اصول ہے

Asool


About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW