Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

مرنے والا ہے بیمارِ حسرت

مرنے والا ہے بیمارِ

مرنے والا ہے بیمارِ حسرت

.غزل

[spacer size=”10″]

مرنے والا ہے بیمارِحسرت ، اب کہا مان جا حسن والے

دیکھ آنکھوں میں تھوڑا سا دم ہےاب تو چہرے سے پردہ ہٹا لے

چین پائے تو کس طرح پائے دل سنبھالے تو کیسے سنبھالے

جس کا دل پڑ گیا ہو ستمگر تیری کافر اداؤں کے پالے

کوئی دیکھے تو کس کشمکش میں آج بیمارِ الفت ہے ان کا

آج ہی موت ہے آنے والی آج وہ بھی ہیں آنے والے

بعد مرنے کے میری لحد پر جانے کیا سوچ کے دل بھر آیا

آگئے اُن کی آنکھوں میں آنسو پھول جب میری تربت پہ ڈالے

پارسائی کا دعویٰ نہ کیجئے مجھ کو معلوم ہے شیخ صاحب

رات کو چھپ کے پیتے ہیں حضرت دن کو بنتے ہیں اللہ والے

[spacer]

(اگر آپ کو شاعر کا نام معلوم ہے تو کامنٹ میں درج کیجیے)

مرنے والا ہے بیمارِ حسرت

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW