Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن نظم

شام سمے ایک اونچی سیڑھیوں والے گھر کے آنگن میں

شام سمے ایک اونچی سیڑھیوں والے گھر کے آنگن میں

غزل

شام سمے ایک اُونچی سیڑھیوں والے گھر کے آنگن میں
چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند
انشأ جی اِن چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے
ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند
ہر ایک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر ایک چاند کا اپنا رُوپ
لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند؟
دَرد کی ٹیس تو اُٹھتی تھی، پر اِتنی بھی بھرپور کبھی؟
آج سے پہلے کب اُترا تھا دِل میں اتنا گہرا چاند
ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے اندھیرے پائے
یہ بھی چاند کا سپنا ہو گا، کیسا چاند؟ کہاں کا چاند؟
انشأ جی دنیا والوں میں بے ساتھی بے دوست رہے
جیسا تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند اکیلا چاند
آنکھوں میں بھی چتون میں بھی چاند ہی چاند جھلکتے ہیں
چاند ہی ٹیکا، چاند ہی جھومر، چہرہ چاند اور ماتھا چاند
انشأ جی یہ اور نگر ہے، اِس بستی کی ریت یہی ہے
سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند
دُکھ کا دریا، سُکھ کا ساگر، اِس کے دم سے دیکھ لیا
ہم کو اپنے ساتھ ہی لے کر ڈوبا اور اُبرا چاند
ہم نے تو دونو کو دیکھا ہے، دونو ہی بیدرد کھٹور
دھرتی والا، انبر والا، پہلا چاند اور دُوجا چاند
چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے؟
چاند کی خاطر ضد نہیں کرتے اے مرے اچھے انشأ چاند
[spacer size=”30″]

شاعر: ابنِ انشا

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW