Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

کبھی کبھی تو جذبِ عشق مات کھا کے رہ گیا

کبھی کبھی تو جذبِ

کبھی کبھی تو جذبِ عشق مات کھا کے رہ گیا

کبھی کبھی تو جذبِ عشق مات کھا کے رہ گیا
کہ تجھ سے مل کے بھی ترا خیال آ کے رہ گیا

کسے خبر کہ عشق پر قیامتیں گزر گئیں
زمانے اُس نگاہ کا فریب کھا کے رہ گیا

یہ کیا مقامِ شوق ہے نہ آس ہے نہ یاس ہے
یہ کیا ہوا کہ لب پہ تیرا نام آکے رہ گیا

کوئی بھی ہم سفر نہ تھا شریکِ منزلِ جنوں
بہت ہوا تو رفتگاں کا دھیان آ کے رہ گیا

چراغِ شامِ آرزو بھی جھلملا کے رہ گئے
ترا خیال راستے سجھا سجھا کے رہ گیا

چمک چمک کے رہ گئیں نجوم و گل کی منزلیں
میں درد کی کہانیاں سنا سنا کے وہ گیا

ترے وصال کی امید اشک بن کے بہہ گئی
خوشی کا چاند شام ہی سے جھلملا کے رہ گیا

وہی اداس روز و شب، وہی فسوں، وہی ہوا
ترے وصال کا زمانہ یاد آ کے رہ گیا

شاعر: ناصرؔکاظمی

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW