Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

گیا وہ شخص تو - geya woh skhakhs

گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

کہیں وہ چہرۂ زیبا نظر نہیں آیا
گیا وہ شخص تو پھر لوٹ کر نہیں آیا

کہوں تو کس سے کہوں آکے اب سرِمنزل
سفر تمام ہوا، ہم سفر نہیں آیا

صبا نے فاش کیا رمزِ بوئے گیسوئے دوست
یہ جرم اہلِ تمنا کے سر نہیں آیا

پھر ایک خوابِ وفا بھر رہا ہوں آنکھوں میں
یہ رنگ ہجر کی شب جاگ کر نہیں آیا

کبھی یہ زعم کہ خود آگیا تو مل لیں گے
کبھی یہ فکر کہ وہ کیوں ادھر نہیں آیا

میں وہ مسافرِ دشتِ غمِ محبت ہوں
جو گھر پہنچ کے بھی سوچے کہ گھر نہیں آیا

مرے لہو کو، مری خاکِ ناگزیر کو دیکھ
یونہی سلیقۂ عرضِ ہنر نہیں آیا

فغاں کہ آئینہ و عکس میں بھی دنیا کو
رفاقتوں کا سلیقہ نظر نہیں آیا

مآلِ ضبطِ تمنا سحرؔ پہ کیا گزری
بہت دنوں سے وہ آشفتہ سر نہیں آیا

[spacer size=”30″]

شاعر: سحر انصاری

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW