Categories

جنوری 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123456
78910111213
14151617181920
21222324252627
28293031 
بزمِ سخن گلدستۂ غزل

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

صوفیانہ کلام

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہَو سَو ہَو
عیش و نشاطِ زندگی چھوڑ دیا جو ہَو سَو ہَو
عقل کے مدرسے سے اُٹھ، عشق کے میکدے میں آ
جامِ فنا و بیخودی اب تو پیا جو ہَو سَو ہَو
ہجر کی جو مصیبتیں، عرض کی اُسکے رُو بَرو
ناز و ادا سے مسکرا، کہنے لگا جو ہَو سَو ہَو
ہستی کے اِس سراب میں رات کی رات بس رہے
صبح عدم ہوا نمود پاؤں اُٹھا جو ہَو سَو ہَو
جامِ فنا و بیخودی 

[spacer size=”30″]

شاعر: حضرت نیاز احمد شاہ 

عشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

عشق! صبروسکوں کا دشمن! عشق عیش و عشرت کا دشمن! عشق! رات دن بیقرار ی کا نام،

جب عشق کی آگ لگتی ہے تو فرہاد اپنے سامنے پہاڑ بھی نہیں دیکھتا اور اس سے بھی دودھ کا چشمہ نکالنے کے لیے تیشہ اٹھا لیتا ہے،

عشق کی آگ وہ آگ  ہے جس میں دل تپ کر خالص ہوتا ہے، وہ عشق چاہے مجازی ہو کہ حقیقی! عشق پہچان ہے چاہیے محبوب کی ہو یا خدا کی۔

جب اسکو کہا میں نے کہ دل ہجر کی مصیبتوں سے دوچار ہے تو وہ ظالم مسکرایا اور بولا: اب تو پیا جو ہو سو ہو۔۔۔

یہ وہ آگ تھی جس کی جلن نے سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا، سکھ چین نیند خواب عیش عشرت ہنسی مذاق – اب تو جو ہو سو ہو۔۔۔

آیئے عابدہ پروین سے سنتے ہیں۔۔۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=XqPlIdUQUbM[/embedyt]

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW