Categories

مارچ 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
ساغرصدیقی

کلامِ ساغر: متاع حسن انسان

کلامِ ساغر: متاع حسن انسان

کلامِ ساغر: متاع حسن انسان, deewan e Saaghir

کلامِ ساغر:   متاعِ حسنِ انسان

ترے غم کو متاعِ حسنِ انساں کر لیا میں نے
نگارِ آدمیت کو غزل خواں کر لیا میں نے

تڑپ کر سوزِ دل کو جلوہ ساماں کر لیا میں نے
بہت بے نور تھی دنیا چراغاں کر لیا میں نے

کسی کے اک تبسم پر اساس زندگی رکھ لی
شراروں کو نشیمن کا نگہباں کر لیا میں نے

اٹھا کر چوم لی ہیں چند مرجھائی ہوئی گلیاں
نہ تم آئے تو یوں جشنِ بہاراں کر لیا میں نے

خدا رکھے یہ عذر جور باقی تم نہ شرماؤ
اب آرزوؤں کو پشیماں کر لیا میں نے

ابھی تک بے کفن سی ہے مری وحشت کی عریانی
یہ کس امید پر گھر کر بیاباں لیا میں نے

کبھی ساغرؔ اگر میں وجد میں آیا جو لہرا کر
تو اپنے ساتھ دنیا کو بھی رقصاں کر لیا میں نے

شاعر: ساغرصدیقی


tere gham ko mata-e-husn-e-insaan, کلامِ ساغر: متاع حسن انسان

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW