Categories

مارچ 2021
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031 
گلدستۂ غزل

درد رکتا نہیں ایک پل بھی

درد رکتا نہیں ایک پل بھی

درد رکتا نہیں ایک پل بھی عشق کی یہ سزا مل رہی ہے
موت سے پہلے ہی مر گئے ہم چوٹ نظروں کی ایسی لگی ہے

بیوفا اتنا احسان کر دے کم سے کم عشق کی لاج رکھ لے
دو قدم چل کے کاندھا تو دیدے تیرے عاشق کی میت اٹھی ہے

رات کٹتی ہے گن گن کے تارے نیند آتی نہیں ایک پل بھی
آنکھ لگتی نہیں اب ہماری آنکھ اس بت سے ایسی لگی ہے

اس قدر میرے دل کو نچوڑا ایک قطرہ لہو کا نہ چھوڑا
جگمگاتی ہے جو ان کی خلوت وہ میرے خون کی روشنی ہے

لڑکھڑاتا ہوا جب بھی نازاں ان کی رنگین محفل میں پہنچا
دیکھ کر مجھ کو لوگوں سے بولے یہ وہی بیوفا آدمی ہے

شاعر:

درد رکتا نہیں ایک پل بھی

ہم نے بھی کیا سوچ رکھا تھا کہ ہم اور محبت؟ نہ بھائی نہ! ہم اس گورکھ دھندے میں نہیں پڑنے والے۔
مگر ہائے وہ نظر! کیا نظر تھی کہ ایک ہی نظر میں ایسا وار کر گئی کہ تن من دھن کی ہوش نہ رہی!
ایسا دل پہ وار کیا ہے ہم موت سے پہلے ہی مرنے لگے – نہ چین کہیں نہ سکون!
اور یہ درد ہے کہ رکتا ہی نہیں صاحب! کیا عشق کی یہی سزا تھی؟
اور وہ بیوفا؟ اے بیوفا جاتی جاتی اتنا احسان تو کر دیتی کہ عشق کی لاج ہی رکھ لیتی!
نہ تن تیرا مانگا نہ من! نہ ہوس نہ لالچ! فقط یہ ایک تمنا تھی کہ اپنے عاشق نامراد کی میت کو دو
چار قدم کندھا ہی دے دیتی!بالآخر میں نے بھی تیرے عشق میں جان دی ہے!
پر تو کہاں اور میں کہاں؟ تیری زندگی پرسکون اور ہم ہیں کہ نہ راتوں کو چین نہ دن کو سکون!
ایک پل آنکھ کیا لگتی ہے کہ جب بھی آنکھ بند ہوتی ہے تیرابت سامنے ہوتا ہے!
ہائے وہ قد! وہ قامت! تیرا بت!
ایسا بیوفا بت کہ میرے دل کو چکی میں پیس کر خون کا قطرہ قطرہ نچوڑ کر اپنی
خلوتوں میں روشنی کرنے لگا، وہ چراغ جوتیرے در میں جلے میرے خون سے جلے!
تیرے درودیوار – میرے خون سے سجنے والے – جب میں وہاں جا ہی پہنچا
تو کیا کہتے ہو کہ یہ وہ بیوفا آدمی ہے؟ میں بیوفا؟ ہائے ری بیوفا!!!

درد رکتا نہیں ایک پل بھی

تبصرہ مسعود

درد رکتا نہیں ایک پل بھی

About the author

pgadmin

Masood

1 Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW