Categories

اکتوبر 2023
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
23242526272829
3031 
ساغرصدیقی گلدستۂ غزل

پوچھا کسی نے حال

پوچھا کسی نے حال

 پوچھا کسی نے حال

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دئیے
پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دئیے

نغمہ کسی نے ساز پر چھیڑا تو رو دئیے
غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دئیے

اڑتا ہوا غبار سرِ راۃ دیکھ کر
انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دئیے

بادل فضا میں آپ کی تصویر بن گئے
سایہ کوئی خیال سے گزرا تو رو دئیے

رنگِ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی
ساغرؔ ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دئیے

 
سرِ بازار کسی نے روکا اور پوچھا کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ فلاں کا نام سنتے ہی دل کے سمندروں مٰن طلاطم آ گیا، سوچوں کے صحراؤں میں طوفان مچ گیا، دل رو پڑا کہ یہ نام تو کچھ کچھ جانا پہنچانا ہے۔ یہ نام تو اسکا ہے جس سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ یہ نام تو کبھی میری پہچان تھا۔ یہ نام تو کبھی میرے لیے سکوں کی گھڑی تھی۔ آج یہ نام کسی کے ہونٹوں سے سن کر دل بے اختیار رو پڑا۔ بھولی بسری یادیں تازہ ہو گئیں۔ اب تو جس طرف دیکھتا ہوں تم ہی نظر آنے لگے ہو۔ اپنی بیخودی میں جب بھی سرِ بازار چلتے ہوئے بادلوں پر نظر پڑتی ہے تو لگتا ہے کہ ابرِ کرم بھی تمہاری تصویر بن گئے ہیں۔ تیکھی نظریں، خوش پیشانی، گہری نیلگوں آنکھیں ، ایک ایک پل تمہارا خیال تمہارا تصور۔۔۔ پانی پر عکس چاند کا بھی دیکھ بھی دل فسردہ ہو جاتا ہے، چاند کی ماہ رخی تمہارے جمال سے کس قدر مماثلت رکھتی ہے۔ ماہ رخ، نازنین اچنبا اور ایک دلکش دلربا اور پرسکوں سا ساز۔۔۔ ایسا ساز جو چھڑتا ہے تو دل روتا ہے۔۔۔ مگر اسکی کسک نہ سنے گزارا بھی ممکن نہیں۔ دور۔۔۔ کہیں دور ساز چھڑا اور دل رویا۔۔۔ اس ساز کے ایک ایک سر میں تیرا سوز جاگ اٹھا، دل کا راگ بول اٹھا۔۔ تمہارے ہونٹوں کا لمس یاد آیا، ہائے وہ ہونٹ وہ دلکش ہونت جو نرم و نازک ہیں جو پھول کی پتیوں کی طرح ملائم ہیں جب بھی کوئی پھول کا غنچہ توڑتا ہے دل روتا ہے۔۔۔ بھلا کوئی کیسے تمہارے ہونٹ جیسے غنچوؤں کو توڑ سکتا ہے؟ لیکن جب ہوائیں میرے تصورات کے دیوانوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں تو غبارِ راہ سے سبق ملتا ہے کہ عشق کا انجام بھی کیا متزلزل ہے۔ کوئی پائداری نہیں۔ شکستہ۔ ناتواں۔۔۔ عشق بھی ایک بھونچال ہے۔۔۔ ادھر آیا ادھر گیا۔۔۔  جب آگ لگتی ہے تو سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے – جب ہمارے ہاتھ سے ہمارے اثاثہ جو کہ تمہاری یادوں کی صورت میں ہیں چھوٹتے ہیں تو ہم بے اختیار رو دیتے ہیں۔۔۔۔


تبصرہ: مسعود

 

 

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW