میں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گا
تمہارا فیصلہ تھا، یاد ہو گا
بہت سے اُجلے اُجلے پھول لے کر
کوئی تم سے ملا تھا، یاد ہو گا
بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
کوئی آنسو گرا تھا، یاد ہو گا
اُداسی اور بڑھتی جا رہی تھی
وہ چہرہ بجھ رہا تھا، یاد ہو گا
وہ خط پاگل ہوا کے آنچلوں پر
کِسے تم نے لکھا تھا، یاد ہو گا

Add Comment