ہمارے ہاتھ میں اک شکل چاند جیسی تھی
تمہیں یہ کیسے بتائیں وہ رات کیسی تھی
مہک رہے تھے مرے ہونٹ اس کی خوشبو سے
عجیب آگ تھی بالکل گلاب جیسی تھی
اسی میں سب تھے مری ماں، بہن بھی، بیوی بھی
سمجھ رہا تھا جسے میں وہ ایسی ویسی تھی
تمہارے گھر کے سبھی راستوں کو کاٹ گئی
ہمارے ہاتھ میں کوئی لکیر ایسی تھی

Add Comment