Categories

دسمبر 2023
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
میری شاعری

تیری یاد کی پرچھائیاں

پرچھائیاں

بحرِ زمزمہ/ متدارک مسدس مضاعف میں غزل پیش ہے:

مجھے تیری یادوں کی پرچھائیاں ڈھستی ہیں
جلتی ہوئی راتوں کی تنہائیاں ڈھتی ہیں

چلتی ہے جب بھی گلیوں سے بارات کوئی
سر کی لے میں ڈوبی شہنائیاں ڈھستی ہیں

کوئے جاناں میں سجے گی آج سخن کی بزم
کوئے جاناں کی بزم آرائیاں ڈھستی ہیں

جو بھی کیاہےمیرے عدو نےبے جا کیا ہے
عدو نے جو بھی کیں ہیں وہ ہوائیاں ڈھستی ہیں

دل کے سب زخم تو بھر ہی جائیں گے لیکن
اب اپنی محبت کی گہرائیاں ڈھستی ہیں

اول تو دل بے سدھ بیخود سا رہتا ہے
آخر میں محبت کی رسوائیاں ڈھستی ہیں

مسعودؔ

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW