بحرِ زمزمہ/ متدارک مسدس مضاعف میں غزل پیش ہے:
مجھے تیری یادوں کی پرچھائیاں ڈھستی ہیں
جلتی ہوئی راتوں کی تنہائیاں ڈھتی ہیں
چلتی ہے جب بھی گلیوں سے بارات کوئی
سر کی لے میں ڈوبی شہنائیاں ڈھستی ہیں
کوئے جاناں میں سجے گی آج سخن کی بزم
کوئے جاناں کی بزم آرائیاں ڈھستی ہیں
جو بھی کیاہےمیرے عدو نےبے جا کیا ہے
عدو نے جو بھی کیں ہیں وہ ہوائیاں ڈھستی ہیں
دل کے سب زخم تو بھر ہی جائیں گے لیکن
اب اپنی محبت کی گہرائیاں ڈھستی ہیں
اول تو دل بے سدھ بیخود سا رہتا ہے
آخر میں محبت کی رسوائیاں ڈھستی ہیں












Add Comment