Categories

دسمبر 2023
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031
خوشبو

چارہ گر ہار گیا ہو جیسے

پروین شاکر – مجموعۂ کلام: خوشبو

چارہ گر ہار گیا ہو جیسے
اب تو مرنا ہی دوا ہو جیسے

مجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے ہی مگر
اب کے یہ زخم نیا ہو جیسے

میرے ماتھے پہ تیرے پیار کا ہاتھ
روح پر دست صبا ہو جیسے

یوں بہت ہنس کر ملا تھا لیکن
دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے

سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے
زیست مفلس کی ردا ہو جیسے

چارہ گر ہار گیا ہو جیسے


 

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW