سائفرلیک ہو گیا!
وہ سائفر جس کے متعلق پاکستانی فوج نے پاکستانی عوام سے جھوٹ بولا۔ وہ سائفر جس پر ایک کڑوڑ ساٹھ لاکھ پاکستانیوں کے ووٹ سے جیتا ہوا الیکٹڈ پرائم منسٹر عمران خان کی جائز حکومت کا غاصبانہ طور پر تختہ الٹا گیا۔وہ سائفر لیک ہو گیا اور اس نے اس بات کا ثبوت دے دیا ہے کہ عمران خان جس بیرونی ملک کی مداخلت کی بات کی تھی وہ بالکل درست تھی!
سائفر سے اس بات کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ واشنگٹن عمران خان کی روس کیساتھ بڑھتی ہوئی دوستی کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور اس کا روس کا دورہ وہ بھی اس دن جب روس نے یوکرئین پر حملہ کیا ناقابلِ قبول ہے۔ سائفر میں عندیہ دیا گیا ہے کہ عمران خان کیخلاف پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ پاس نہ ہوا تو پاکستان کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اور اگر عدم اعتماد کا ووٹ پاس ہو گیا تو ‘سب کچھ معاف کر دیا جائے گا’!
سائفر کے مضمون سے یہ بات غور طلب ہے کہ عمران خاں اپنے فیصلے خود لیتا ہے اور اسے نہ کسی جرنیل کے حکم کی ضرورت ہے اور نہ واشنگٹن کی!
اور یہ بات تو مانی ہوئی ہے کہ جب عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا اس نے اپنی خارجہ پالیسی خود مرتب کی ، کسی جرنیل یا امریکی حکم کے تحت نہیں بنائی جو کہ پاکستان میں ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا تھا۔ اب پاکستان میں ایک ایسا حکمران آیا تھا جو امریکہ کو بھی absolutely not کہنا جانتا تھا۔ اور یہ بات واشنگٹن کو قبول نہیں تھی!
سائفر نے پاکستانی فوج کا جھوٹ کھول کر رکھ دیا ہے۔
پاکستان کا آئین بری طرح پامال کیا گیا ہے۔ فوج نے ایک جمہوری حکومت پر شب خون مارا ہے۔ فوج نے پاکستان کو یرغمال بنایا ہے!فوجی کمانڈر نے خود کو پاکستان کے آئین اور قانون سے بالاتر منوا کر فرعون ہونے کا ثبوت دیا! فوج نے پاکستان پر پاکستان کی تاریخ کے بد ترین ڈاکوؤں کو مسلط کیا ہے! فوج نے پاکستان کی ریاست کے خلاف بد ترین غداری کی ہے!
اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ 9 مئی کا واقعہ جھوٹا اور من گھڑت واقعہ ہے جس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ فوج اور حکومت کی کرسی کی لالچ میں بھٹکنے والے نام نہاد سیاسی درندے جیسے نون گینگ اور زرداری گینگ کی ملی بھگت ہے! نو مئی پر جو بھی قتل و غارت، لوٹ مار، درندگی، عصمت درازی، املاک کو نقصان پہنچایا گیا ، سب کا سب فوج اور ان سیاسی درندوں نے کرایا ہے۔
جب سے غدار فوج کے سایہ تلے ان ڈاکوؤں نے پاکستان کو یرغمال بنایا ہے کوئی چالیس لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی وطن سے ہجرت کر گئے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں کاروبار تباہ ہوئے ہیں۔ سینکڑوں غیر ملکی کمپنیاں پاکستان چھوڑ گئی ہے۔ مہنگائی میں انگنت اضافہ ہوا ہے۔ لوگ سانس لینے سے ڈرنے لگے ہیں کہ کہیں اس پر بھی فردِ جرم نہ لگ جائے۔ عربوں نے پاکستانیوں کو اپنے ممالک سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ جس امریکہ کے کہنے پر فوج نے غداری کی اسی امریکہ نے پاکستانیوں کے امریکہ داخلے پر پابندی لگا دی۔ یہاں تک کہ عربوں نے دئیے ہو چندے واپس لے لیے جبکہ ہزاروں پاکستانیوں کو جو عرصہ دراز سے امارات میں کام کر رہے تھے انہیں ڈیپورٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کا سرکلر ڈیبتھ عروج ترین سطح پر پہنچ گیا ۔

فوج اس وقت امریکہ کے قبضہ میں ہے اور وہ پاکستانی فوج سے جب چاہے جو چاہے کروا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہے۔بجٹ بھی وہی ڈیکٹیٹ کرتے ہیں اور وہ جب چاہیں جو ٹیکس چاہیں لگوا سکتے ہیں۔ اور یہ حرامخور پتلیوں کی طرح انکی انگلیوں کے اشاروں پر ناچنے پر مجبو ر ہیں کیونکہ ان کی غلیظ سوچ ہی یہ ہے کہ یہ منگتے ہیں اور منگتے دینے والے کے محتاج ہیں۔
اگر عاصم منیر یہ غداری نہ کرتا تو وہ کسی اور جرنیل سے کروا لیتے، کیونکہ پاکستانی فوج میں غداروں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ اگر شریفی اور زرداری طوائفوں کی طرح نہ ناچیں تو انکی حکومت کی ہوس جاتی ہے۔
پاکستان اس وقت انسانی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے ، ملک کو غدارفوجی جرنیلوں نے یرغمال بنا کر اپنے پسند کے ٹٹو بٹھا رکھے ہیں جو فوج کے اشاروں پر طوائفوں کی طرح ناچتے ہیں!
ان ناچنے والوں میں ایک بہت بڑا گروہ مولویوں کا بھی ہے۔ اس سائفر کے بعد ملا کا کردار بدترین حد تک پسپا ہوا ہے۔ وہ ملا جو چیخ چیخ کر بکتے تھے کہ فوج کے خلاف بات کرنا غداری ہے، وہی فوج غدار نکلی،یہ ملا چلا چلا کر کہتے تھے کہ فوج کے خلاف جہاد کی سوچ رکھنا کفر ہے، اب ان چیختے ہوئے مولویوں سے پوچھنا ہے کہ اب بتائیں کہ جہاد کس کے خلاف جائز ہے؟ پاکستان پر اس وقت باطل کا قبضہ ہے! آپ کا دین باطل کے خلاف جہاد کو کیا کہتا ہے؟ کفر یا دہشتگردی؟
ملا کا کردار ہمیشہ بھیانک رہا ہے۔ اب کی بار ملا نے اپنی رہی سی عزت کا جنازہ بھی نکلوا دیا ہے۔ ملا نے پاکستانی عوام پر مذہب کے نام پر جو قدغن لگائی ہے وہ کسی ظلم ور بربریت سے کم نہیں۔ اس طبقے نے پاکستانیوں کا مذہب کے نام پر بدترین برین واش کیا ہے کہ پاکستانی قوم دین سے دور مذاہب کی چند رسوم میں جکڑ کر رہی گئی ہے۔ عاصم منیر نے اپنی فرعونیت کو ثبت کرنے کے لیے ان ملاؤں کوعوام کے دماغوں پر مذہب کا ٹیکا لگانے کے لیے معمور کیا!
ملا سے سوال ہے کہ اس سائفر کے لیک ہونے سے تمہارا کیا ردِ عمل ہے ؟ کیا فتویٰ کسنے جا رہے ہو یا چپ چاپ حرام کھاتے رہو گے؟ کیا ایک ایسی قوت جس نے ایک جمہوری حکومت پر غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے ، اسکے خلاف جہاد جائز ہے کہ نہیں؟ کچھ تو بولو ملا تم نے بھی ایک دن اللہ کے حضور پیش ہونا ہے!
خدا کے حضور تو پیش اس قوم نے بھی ہونا جو کسی بھی طور ایک قوم نہیں لگتی۔ بلکہ یہ چوبیس کڑوڑ ڈنگروں کا ایک ایسا گروہ ہے جن کی زندگیوں کی بھاگ دوڑ دس ڈالر تک محدود ہے۔ اس قوم کے اندر شعور نام کی کوئی شے تھوک برابر بھی نہیں پائی جاتی: بار بار بار ایک ہی کھڈ سے ڈھسنے کے باوجود اسی کھڈ میں ہاتھ ڈالے بیٹھے ہوئی ہے۔ اس قدر جاہلیت شاید قدرت نے بھی پیدا نہیں کی ہوگی جتنی جاہلیت پاکستانی قوم نے اختیار کر رکھی ہے۔ پڑھا لکھا انسان شدید ترین جہالانہ باتیں کرتے ہوئے بھی شرم محسوس نہیں کرتا۔ یوں لگتا ہے جیسے اس قوم پر مکمل طور پر نحوست کی مہر لگا دی گئی ہے اور ان کی جاہلیت انکی نحوست کو پروان چڑھاتی ہے! اناللہ واناالیہ راجعون!!!!!
اس جہالت کی ایک مثال اس ٹویٹ میں دیکھئے:

اب بندہ اس عقل کی اندھی عورت سے پوچھے کہ تمہارے اس کہنے سے اس کی شان پر کون سا فرق پڑتا ہے؟ اس وقت اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ سائفر ہے جس کی صداقت اسکے حق میں جاتی ہے۔ اے عقلمند عورت کیا تمہارے اندر اتنی جرأت ہے کہ تم اگلی ٹویٹ کر کے عاصم منیر سے پوچھو کہ اس نے اس ملک کے ساتھ غداری کیوں کی ہے؟ مگر نہیں! پاکستان کے 90 فیصد خود ساختہ صحافی اور عاقل لوگ جن کی اوقات حقیقتاً کرائے کے ٹٹوؤں تک محدود ہےانکی زندگیوں کا مقصد عمران خان کی ذات پر تنقید کرنا اور فوج کے سامنے سرخرو ہونا ہے!! حرام خورو !اپنے اندر سچ کا ساتھ دینے کی ہمت کب پیدا کرو گے؟
اس وقت پاکستانی عوام، اہلِ قلم، صحافیوں، ملاؤں، دانشمندو، بیوکریسی اور ہر طبقے پر کڑا امتحان ہے کہ یہ سائفر کا سچ جاننے کے بعد وہ حق کے ساتھ کھڑے ہیں کہ جھوٹ کے ساتھ۔ اس وقت بلاامتیاز سچ عمران خان ہے اور جھوٹ عاصم منیر!!
سائفر نے سچ بتا دیا ہے!!!!!!
تحریر: مسعود














Add Comment