سنگِ راہ
پتھر سمجھ کر جو پھینکا گیا ہو رہگزر میں
اسے جز ٹھوکروں کے کیا ملے گا عمر بھر میں
اپنی زندگی لگ جانے کی دعائیں تمہیں دیتا
بری فطرت ہے مگر دوسروں کو ڈالنا ضرر میں
یاد ہے وہ سیاہ رات جب تو تھی میری ہمسفر
آندھی تھی طوفان تھا میں تھا غرق تیری نظر میں
طوفانِ باد و باراں میں تاب نہیں تھی ڈبونے کی
میرا سفینہ تو ڈوبا ہے تیرے آنسوؤں کے بھنور میں
میں نے کشتِ قلب کو آس کے لہو سے سینچا ہے
امید کی فصل جلا دی، ستمگر نے پل بھر میں
میں نے چنے تھے خاص پھول اس کی سیج کے لیے
اس نے چبھوئے کانٹے مرے خلوص کے جگر میں
میرے دل کے گلشن میں ایک پھول جو کھلا تھا
اس کے پائے نازک نے مسلا نجانے کس بہتر میں
دل کے داغ جلائے میں نے راتوں کی تاریکیوں میں
وہ ہوتے رہے لا پروا، ہر بار کسی نہ کسی برتر میں
بیتی یادوں کو بنا کے مشعلِ راہ، تجھے ڈھونڈھا ہر جا
چمن میں ہماری باتیں تھیں رسوائیاں تھیں شہر میں
ازل سے ہے تڑپایا تو نے، ابد تک تڑپائے گی
جفاؤں کے سوا اور ہے ہی کیا تیرے دفتر میں
ذرا پاس آ کر دیکھ لے، حال اپنے بیحال کا
نگاہیں بچھائے بیٹھا ہے، دِیا جلائے در میں
چل دئیے چراغِ نیم شب کو سپردِ ہوا کر کے
اِس دئے کی کیا وقعت باد و باراں کی نظر میں
آزمائشوں کا باب رقم ہوا کتابِ حیات میں
جلا دئیے ورق انہوں نے اپنے شعلہَ قہر میں
در بدر رسوا کیا اسی نگاہِ غلط انداز نے
شوقِ نظر لے گئی کیوں تیرے ہی شہر میں
جی ڈھونڈتا ہی رہا اس تمنائے بیتاب کو
تیرا ملا نہ کہیں نشاں مسعودؔ سنگدل دہر میں

sang e raah, urdu sad poetry, urdu adab, insaan, ruswa, kitab e dil, nigah, tamana, sangdil














Add Comment