بکھرے ہوؤں کو بکھیرنا دنیا کا اعجاز ہے
بکھرے ہوؤں کو بکھیرنا دنیا کا اعجاز ہے
سدا خوش رہو اے صنم میرے دل کی آواز ہے
اس خوشی میں احساسِ غمی بھی رہے ساتھ تمہارے
وہ باتیں تڑپائیں تجھے، تو جن کی ہمراز ہے
تیری بیداغ زندگی میں جب انتظار کی آگ لگے
تو سمجھ لینا کہ پیار کا یہ بھی اک انداز ہے
شکوہ کر رہی ہو کہ میں کوس رہا ہوں تجھ کو
تیری یہ ادا سنگدلی نہیں تو کیا نیاز ہے؟
کاش کہ تو راہِ وفا میں دیکھتی مسعوؔد کو
دلوں کو توڑ دینا کہاں کا ناز ہے؟

Bikhrey Huwoun Ko Bikhairna














Add Comment