بکھرے ہوؤں کو بکھیرنا دنیا کا اعجاز ہے
بکھرے ہوؤں کو توڑنا دنیا ہی کا اعجاز ہے
خوش رہو اے شبنم میرے دل کی یہ آواز ہے
اس خوشی میں احساسِ غمی بھی ہو ساتھ تمہارے
وہ باتیں تڑپائیں تجھ کو جن کی تو ہم راز ہے
تیری زندگی میں جب انتظار کی آگ لگے
تو جان لینا کہ یہ بھی پیار کا اک انداز ہے
شکوہ کر رہی ہو کہ میں کوس رہا ہوں تجھ کو
ادا یہ تیری سنگدلی نہیں تو کیا نیاز ہے؟
کاش تو راہِ وفا میں دیکھتی مسعوؔد کو
میرے دل کو توڑ دینا کہاں کا ناز ہے؟
رمل مثمن محذوف

Bikhrey Huwoun Ko Bikhairna














Add Comment