Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

اے عشق

Meri Shairi: Aey Ishq
Ishq

ہمیں برباد نہ کر

کچھ بھی  نہ مانگ صلہ اپنی وفاؤں کا
اٹھائے جا تاعمر جنازہ اپنی تمناؤں کا
آہیں نہ بھر ، فریاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

یونہی چھپ چھپ کر رونے کے بہانے ہیں
یہ اشک محبت کے نذرانے ہیں
جو دے گیا اُسے یاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

عجب ضبط تھا ترے ہاتھ میں کسی اور کا ہاتھ دیکھنا
سینے میں مرے دل کا وہ چیخنا، وہ تڑپنا
سب دیکھ لیا، سب سہہ لیا، اب مزید کوئی بیداد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

 کیوں پھرتے ہو ساحلوں پر طوفان بھری راتوں میں
تم سے پہلے کئی غرق ہوئے اِن پیاربھری باتوں میں
یہی اصول ہے محبت کا، کوئی تازہ اصول ایجاد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

یہ کیسے روگ پال لیے ہیں تو نے او مسعودؔ میاں
سب کچھ خواب خیال ہوا، یادیں ہیں موجود میاں
باتیں ہیں اُسکی کھوکھلی، اِن پر دنیا آباد نہ کر!
اے عشق ہمیں برباد نہ کر!

مسعود

Meri Shairi: Aey Ishq

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW