یادوں کو سمیٹنے میں
یادوں کو گنوں تو ماہ و سال پڑے تھے
فسانۂ غم سننے کو لوگ پاس کھڑے تھے
ایک ہی پل میں سنا دیتا انہیں رودادِ عشق
وہ میرے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کے رو پڑے تھے
ڈوبتے ہوئے دلوں کی نبضیں بکھر رہی تھیں
بے قابو جذبوں کے ساغر چھلک پڑے تھے
جہاں تو نے بویا ہے اپنی شادمانیوں کا پھول
اُسی زمیں میں میں نے اپنے ارمان گڑے تھے
مت توڑ اِسے اے ظالم یہ کاسہ ہے میری آنکھوں کا
اشکوں کے چاند ستاروں سے یہ موتی جڑے تھے
عشق نے کر دیا ہے مجھے عالم سے لا تعلق
دنیا میں کرنے کو ورنہ مسعودؔ کام بڑے تھے















Add Comment