Categories

دسمبر 2018
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12
3456789
10111213141516
17181920212223
24252627282930
31 
شب و روز میری شاعری

یادوں کو سمیٹنے میں

Yadon Ko Sametney Mein
یادوں کو سمیٹنے میں

یادوں کو گنوں تو  ماہ و سال پڑے تھے
فسانۂ غم سننے کو لوگ پاس کھڑے تھے

ایک ہی پل میں سنا دیتا انہیں رودادِ عشق
وہ میرے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کے رو پڑے تھے

ڈوبتے ہوئے دلوں کی نبضیں بکھر رہی تھیں
بے قابو جذبوں کے ساغر چھلک پڑے تھے

جہاں تو نے بویا ہے اپنی شادمانیوں کا پھول
اُسی زمیں میں میں نے اپنے ارمان گڑے تھے

مت توڑ اِسے اے ظالم یہ کاسہ ہے میری آنکھوں کا
اشکوں کے چاند ستاروں سے یہ موتی جڑے تھے

عشق نے کر دیا ہے مجھے عالم سے لا تعلق
دنیا میں کرنے کو ورنہ مسعودؔ کام بڑے تھے

یادوں کو سمیٹنے میں

مسعودؔ

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW