Categories

دسمبر 2005
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 1234
567891011
12131415161718
19202122232425
262728293031 
شب و روز میری شاعری

شراب نوشی

Geet: Sharab'Noshi
Sharab’Noshi

شراب نوشی

آنکھوں میں مستی چھائے‘ دل بھی ڈوبا جائے
یہ کیا ہوا ہے مجھ کو کچھ سمجھ نہ آئے

میں تو نہ چاہتا تھا کہ پیوں شراب کو
دیکھا جو لیکن ان کے شباب کو
میں تشے میں جھوم گیا قدم لڑکھڑائے

خمارِ نشہ میں‘ میں سب کچھ بھول گیا ہوں
یاد تھا جو مجھ کو وہ میں سب کچھ بھول گیا ہوں
یہ کیسا نشہ ہے کوئی مجھ کو بتائے

پوچھتے ہو کیوں کی ہے میں نے شراب نوشی
چھوڑ گئی ہے مجھے جب سے میری نوشی
میں نے شرابی بن کر غم دنیا کے بھلائے

Geet: Sharab’Noshi

Shab-o-roz

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW