اے دوست
آہوئے صیاد دیدہ ہے میرا دل اے دوست
تڑپ رہا ہے اک مدت سے یہ بسمل اے دوست
رات سے کالا کاجل‘ کاجل سے کالی زلفیں
اک حلقۂ بے قراری ہے یہ کاجل اے دوست
دلیلِ سحر ہے شمع جس پہ تکیہ ہے دلِ ناشاد کو
اداس بیٹھا ہے یہ رنگ پہ ہے محفل اے دوست
اہلِ جنوں دشت و کہسار کو بھی محمل سمجھتے ہیں
بڑھا لیا جس نے قدم پائیں گے منزل اے دوست
ترے دید کی طلب تختۂ دار تک لے آئی ہم کو
آ جاؤ سامنے کہ نہ جائیں بے حاصل اے دوست
پھول نہیں ہیں اے جاناں‘ لہوِ جگر حاضر ہے
کرو حکم سجا دیں ان سے تیرا محمل اے دوست
دل میں تیری صورت سجائے کیوں نہ اترائے مسعودؔ
خدا نہ کرے کبھی ہو تیری یاد سے غافل اے دوست















Add Comment