Categories

مئی 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031 
گلدستۂ غزل

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے
صاف ظاہر ہے نگاہوں سے

غزل

  صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ وہ ہم پرمرتے ہیں
منہ سے کہتے ہوئے یہ بات مگر ڈرتے ہیں

اِک تصویرِ محبت ہے جوانی گویا
جس میں رنگوں کے عوض خونِ جگر بڑھتے ہیں

عشرتِ رفتہ نے جا کر کیا یاد ہمیں
عشرتِ رفتہ کو ہم یاد کیا کرتے ہیں

آسمان سے کبھی دیکھی نہ گئی اپنی خوشی
اب یہ حالات ہیں کہ ہنستے ہوئے ڈرتے ہیں

شعر کہتے ہو بہت خوب تم اخترؔ لیکن
اچھے شاعر یہ سنا ہے کہ جواں مرتے ہیں

شاعر: اخترشیرانی

چھپی چھپی سی مسکان، ہلکی ہلکی شرارت، کبھی دیکھ کر مسکرا دینا، کبھی مسکرا کر دیکھ لینا، دل میں اظہارِ محبت، ہونٹوں پر خوفِ دنیا، نہ اظہار نہ اقرار، یہ عہدِ جوانی کی تصویریں، یہ محبت کی تعزیراں، خوںِ جگر، اُدھر اِدھر، ماضی کی باتیں، باتوں کیا حسرتیں، یادیں، اذیتیں، انجانی خوشیاں انجانے دکھ، ایک جملہ محبت کیا کہدو، ہر طرف کیدو ہی کیدو، جہاں دشمن، آسمان دشمن، اندر ہی اندر، دھڑکن بھی مکدر، ہنسی ختم، شُتم ہی شُتم، اچھی باتیں، ویران راتیں۔۔

اردوشاعری


About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW