Categories

مئی 2019
پیرمنگلبدھجمعراتجمعہہفتہاتوار
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031 
گلدستۂ غزل

بھیگی ہوئی آنکھوں کا

بھیگی ہوئی آنکھوں کا
بھیگی ہوئی آنکھوں کا

غزل

  بھیگی ہوئی آنکھوں کا یہ منظر نہ ملے گا
گھر چھوڑ کے نہ جاؤ کہیں گھر نہ ملے گا

پھر یاد بہت آئی گی زلفوں کی گھنی شام
جب دھوپ میں سایہ نہ کوئی سر پے ملے گا

آنسو کو کبھی اس کا قطرہ نہ سمجھنا
ایسا تمہیں چاہت کا سمندر نہ ملے گا

اس خواب کے ماحول میں بے خواب ہیں آنکھیں
بازار میں ایسا کوئی زیور نہ ملے گا

یہ سوچ کو اب آخری سایہ ہے محبت
اس در سے اٹھو گے تو کوئی در نہ ملے گا

شاعر: ؟؟

ساری دنیا گھوم آؤ جو سکون تمہیں میری بانہوں میں ملے گا وہ کہیں اور نہیں ملے گا۔ یہ میری آنکھوں میں قطرے ساجن نہ ملیں گے، کوئی تیرے دکھ میں نہیں روئے گا، یہ میری زلفوں کی شام، میرے چہرے کا اجالا ہے تیرے لیے بیکل ہے، جب الم زدہ دن، کرب بھری راتیں ستائیں گی، چاند کی چاندنی بھی چبھے گی، سورج کی کرنیں جلائیں گی تو تمہیں میری ہی زلفوں کی گھنی شام یاد آئے گی۔ میری چتون کا ایک ایک قطرہ تمہارے لیے چاہت کا ایک بیکراں سمندر ہے جاناں، مجھے سیم تو زر کی زیورات نہیں چاہیے بس ان بے خواب آنکھوں کے سپنے ہی زیور انمول ہے۔ یہ سوچ لو ساجن تیرے لیے میری محبت کا سمندر بحرِ بیکراں ہے اس محبت کو ٹھکرا گئے تو تمہیں کہیں محبت کا در نہ ملے گا۔۔۔

اردوشاعری

About the author

pgadmin

Masood

Add Comment

Click here to post a comment

Discover more from Pegham

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading

Pegham

FREE
VIEW